Popular Posts

Monday, December 5, 2011

سیکسی اسٹوڈنٹ کو دل بھر کے چودا

ہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا۔میں ٹیوشن اپنے گھر پر ہی پڑھایا کرتا تھا میری اس وقت تک شادی ہوچکی تھی۔ مگر شام میں مجھے گھر کے خرچے پورے کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھانا پڑتی تھیں۔ سو میرے شاگردوں میں کافی لڑکے اور لڑکیاں تھیں۔ ان میں ہی ایک لڑکی تھی جسکا نام سونیا تھا اسکی عمر تقریباً بائیس سال تھی اور وہ گریجویشن کی اسٹوڈنٹ تھی کافی ڈل اسٹوڈنٹ تھی مجھے اس پر کافی محنت کرنا پڑتی تھی۔

وہ میری بیوی سے کافی فری تھی۔ مگر اسکی حرکتیں مجھے کچھ مشکوک لگتی تھیں۔ وہ تھی بھی بڑی خوبصورت بڑا دل کرتا تھا اسکے ساتھ سیکس کرنے کا اور ایسے ویسے نہیں جانوروں کی طرح جنگلی جانوروں کی طرح ۔ خیر ایسا ہوا کہ میرے سالے کی شادی ہو رہی تھی میری بیوی نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ پورے ایک ہفتہ کے لیے اپنے میکے جائے گی۔ تو میں نے حامی بھر لی تھی مگر میں نہیں جاسکتا تھا کیونکہ اسٹوڈنٹس کے پیپرز کا وقت قریب تھا اور سونیا کی فکر زیادہ تھی مجھے۔ اس لیے میں ان لوگوں کو چھٹیاں نہیں دےسکتا تھا۔

سونیا کا گھر ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا، اور وہ آجکل کافی دیر دیر تک میرے پاس رہ کر اپنے پیپرز کی تیاری کر رہی تھی۔ میری بیوی اب میکے جاچکی تھی۔ گھر پر میں اکیلا تھا۔ یا پھر آفس سے واپس آنے کے بعد میرے اسٹوڈنٹس۔ جو کہ رات کو دیر تک میرے ساتھ ہوتے تھے۔ ایکدن میں نے سونیا سے کہا تم بہت آہستہ چل رہی ہو پیپرز بہت نزدیک ہیں تم کو زیادہ وقت دینا ہوگا۔ اس نے کہا میں کیا کروں میں نے کہا رات کو مزید دیر تک رکو۔ اس نے حامی بھرلی۔ پھر اسی دن میں نے اپنے اسٹوڈنٹس کو کہا کہ آپ لوگ اب جلدی چلے جایا کریں کیونکہ میری نیند پوری نہیں ہورہی ہے۔ اور آپ لوگوں کی تیاری تو تقریباً ہو ہی چکی ہے اس لیے اب زیادہ دیر تک اگر پڑھنا ہے تو اپنے گھروں پر پڑھیں۔ سب اس بات کے لیے تیار ہوگئے میرا اصل مقصد سونیا کے ساتھ وقت گذارنا تھا۔ میں دل میں ٹھان چکا تھا کہ اسی دوران جب تک میری بیوی اپنے میکے ہے اسکو چود ڈالوں پھر پتہ نہیں ایسا موقع ملے کہ نہیں۔

خیر اگلے دن سے میرے اسٹوڈنٹس جلدی جانے لگے اور مجھے کافی وقت سونیا کے ساتھ ملنے لگا۔ اگلے دن سونیا نے کہا آج وہ رات کو دیر تک میرے پاس رکے گی اور پڑھے گی کیونکہ سارے گھر والے ایک شادی میں جارہے ہیں اور رات کو بہت دیر میں واپسی ہوگی۔ جب میرے بھیا آئیں گے مجھے لینے تو میں جاؤں گی۔ چونکہ میری بیوی سے سونیا کی کافی دوستی تھی لہذا اسکے گھر والے سونیا کو میرے پاس چھوڑنے پر فکرمند نہیں تھے اور ویسےبھی انکے علم میں نہیں تھا کہ میری بیوی آجکل اپنے میکے میں ہے۔خیر میں نے سوچا آج ہی موقع ہے سونیا کو دل بھر کے چود لوں پتہ نہیں دوبارہ یہ موقع ملتا ہے کہ نہیں۔

خیر میں آفس سے واپس آیا تو سونیا ذرا دیر بعد ہی آگئی اور میری باقی اسٹوڈنٹس بھی۔ آج سونیا نے ایکدم ٹائٹ شلوار قمیض پہنا ہوا تھا جس میں وہ کسی سیکس بم سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی۔ سارے اسٹوڈنٹس سمجتھے تھے کہ سونیا میری رشتہ دار ہے اور اس بے فکری سے میرے گھر میں گھومتی تھی جسکی کی اجازت کسی اور اسٹوڈنٹس کونہیں تھی۔ خیر میں سونیا کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا تو اس بھی جواب میں مسکراہٹ پیش کی ۔ اور یہ بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ جو کہ میں اسوقت سمجھ نہ سکا۔ خیر دو گھنٹے بعد میرے اسٹوڈنٹس چلے گئے پھر میں نے سونیا سے کہا چلو کھانا کھا لیتے ہیں پہلے پھر پڑھیں گے ۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور میرے ساتھ کچن میں آکر کھانا گرم کرنے میں میری مدد کرنے لگی۔ اس دوران کچن میں مختلف چیزیں اٹھانے کے چکر میں گھومتے چلتے پھرتے میں دو تین بار سونیا سے ٹکرایا ایک بار اسکی گانڈ سے ٹکرایا مگر وہ کچھ نہ بولی۔ بلکہ مسکرا کر چپ رہی۔

خیر پھر ہم دونوں ٹیبل پر پہنچے کھانا لے کر اور ساتھ ہی کھانے لگے ۔ کھانے سے فارغ ہوکر میں تو باتھ روم چلا گیا اور باتھ لے کر نکلا مگر سونیا برتن وغیرہ سمیٹ کر دھو کر فارغ ہو کر اسٹڈی روم میں تھی اور کتابیں کھولے پڑھ رہی تھی میں اپنے نائٹ ڈریس میں تھا کیونکہ سونیا کے جانے کے بعد مجھے سونا ہی تھا۔ سونیا نے مجھے دیکھا نہیں دیکھا تھا میں نے اس سے پوچھا کیا پڑھ رہی ہو تو وہ ایکدم چونک کر مجھے دیکھنے لگی اورپھر خود کو سنبھالتے ہوئے کہنے لگی کچھ نہیں بس یونہی میں نے کہا چلو اب پڑھائی شروع کرتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کر کے ایک طرف مجھ سے دور رکھ دی اور اپنی دوسری ایک کتاب اٹھا کر وہ کھول لی میں نے اس سے کہا سونیا وہ کتاب دینا جو تم پڑھ رہی تھی ابھی۔ وہ یہ سنتے ہی ایکدم گھبرا گئی اور کہا سر وہ کورس میں شامل نہیں ہے غلطی سے میں ساتھ کے آئی تھی۔

میں نے کہا ہے تو کتاب ہی نا مجھے دو تو سہی پھر اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب میرے ہاتھ میں دے دی کتاب کا کوئی ٹائٹل نہیں تھا میں نے کتاب کھولی تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک سیکسی کہانیوں کی کتاب تھی جس میں تصویریں بھی تھیں۔ میں نے سونیا کی جانب دیکھا تو وہ نظریں نیچے کیئے ہوئے تھی اور اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسکے نزدیک پہنچا تو مجھے پتہ چلا اسکی سانس بھی کافی تیز چل رہی تھی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ اسکے برابر بیٹھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور فوراً ہی اسکو اپنے لنڈ پر رکھ دیا وہ جیسے ہوش میں آگئی۔ ایکدم ہڑبڑا کر مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور کہا آج تم شام سے کافی بدلی بدلی اور اپنی اپنی سی لگ رہی تھی اب سمجھ آیا کہ وجہ کیا تھی۔ وہ کچھ نہیں بولی اور نظریں نیچے کر لیں ۔ میں نے ہمت کر کے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ پھر میں نے اسکے ممے پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایکدم کسمسا اٹھی۔ اب مجھ سے برادشت نہ ہوا اور میں نے اسکو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ میں حیران رہ گیا جب میں نے محسوس کیا کہ سونیا نے بھی مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا ہے اور مجھے اپنے سینے میں بھینچ رہی ہے۔

میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرا آدھے سے زیادہ کام تو ہوچکا تھا۔ میں نے مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ اور اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ میری جانب دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہونے لگے تھی اور آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ میں نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے مگر اس بار میں نے ایک لمبی کس کی اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں مموں کو دباتا رہا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی تھی تقریباً چدنے کے لیے تیار۔ اب میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اسے کہا چلو میرے ساتھ وہ چپ چاپ میرے ساتھ کھڑی ہوئی میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو لے کر اپنے بیڈ روم میں آگیا ۔ بیڈ کے پاس پہنچ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور اسکو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکے کولہوں تک لے گیا اور انکا مساج کرنے لگا اس نے اپنے کولہے سکیڑ کر سخت کر لیے۔

پھر میں نے اسکے گالوں پر کسنگ کی اس نے جو قمیض پہنی تھی اسکی زپ پیچھے کی طرف تھی میں نے واپس کمر تک ہاتھ لے جاکر اسکی زپ کھولی اور اسکی قمیض کو ڈھیلا کردیا۔ اسکی قمیض اسکے شانوں سے ڈھلک کر نیچے آگئی تھی۔ اور اسکا بریزر صاف نظر آرہا تھا جس میں سے اسکے بڑے بڑے دودھیا رنگ کے ممے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ میں نے اسکی قمیض کو اسی پوزیشن میں چھوڑ کر اسکی شلوار پر حملہ کیا اور میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہ شلوار میں الاسٹک استعمال کرتی ہے۔

میرے لیے تو اور آسانی ہوگئی تھی۔ میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی پوری شلوار زمین پر گرا دی وہ خاموش کھڑی صرف تیز تیز سانسیں لے رہی تھی مگر کچھ نہ کہہ رہی تھی اور نہ ہی مجھے روک رہی تھی۔ اب میں نے اسکی قمیض کو بھی اسکے بدن سے الگ کیا وہ صرف برا میں رہ گئی تو اسکو اس تکلف سے بھی آزاد کردیا اب وہ پوری ننگی میرے سامنے ایک دعوت بنی کھڑی تھی میں نے اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔اسکا بدن ایکدم چکنا اور بھرا بھرا تھا اسکا جسم کافی گرم ہو چکا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی چوت کی جانب بڑھایا اور اپنی انگلی جیسے ہی اسکی چوت میں ڈالی وہ گیلی ہوگئی اسکا مطلب وہ کافی آگے جاچکی تھی اب مجھے اپنا کام کرنا تھا میں نے اسکو بیڈ پر چلنے کو کہا۔وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے دیکھنے لگی ۔ میں نے انتظار نہیں کیا اور میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اسکے اوپر لیٹ کر اپنا لنڈ اسکی ٹانگوں کے بیچ اسکی چوت کے منہ پر پھنسا دیا۔ اور اسکو چوت پر رگڑنے لگا۔

وہ بے حال ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے کبھی اس نے سیکس کیا ہے اس نے کہا ہاں ایک بار میں خوش ہوگیا کیونکہ اب زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ میں نے بیٹھ کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی چوت کے منہ پر لنڈ کو سیٹ کیا میرا لنڈ اسکی چوت کے پانی سے گیلا ہو کر چکنا ہوچکا تھا اور اندر جانے کو بے تاب تھا۔ میں نے تنے ہوئے لنڈ کو ایک زور دار جھٹکا لگایا اور میرا لنڈ اسکی چوت میں داخل ہوگیا اور اسی لمحے سونیا کا سانس ایک لمحے کو رکا پھر تیز تیز چلنا شروع ہوگیا۔ میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا کیونکہ پورااندر جانے کے لیے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا ضروری تھا۔ بس میں نے تھوڑا سا پیچھے کیا لنڈ کو اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا پورا لنڈ اسکی چوت کے اندر داخل ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔

اسکو اپنے جسم میں میرا سخت تنا ہوا لنڈ محسوس ہوا تو وہ نشے میں بے حال ہونے لگی اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی اور آہستہ سے میرے کان میں کہا مجھے چودو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ سننا تھا میری اندر بجلی دوڑ گئی اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ میری رفتار میں اضافہ ہوتا رہا وہ جلدی جلدی چھوٹ رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا رکو میں ابھی آیا اس نے کہا کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا کہیں نہیں ابھی آتاہوں میں کچن میں گیا اور وہاں ایک ٹیبلیٹ اسی وقت کے لیے رکھی تھی وہ میں نے نگلی جلدی سے اور واپس آیا اور پھر سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا اسکو نہیں معلوم تھا اب اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اب میں نے آہستہ آہستہ سے چودنا شروع کیا۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی رفتار تیز کروں مگر میں انتظار میں تھا کہ ٹیبلیٹ کا اثر شروع ہو جائے وہ بہت تیز اثر کرنے والی ٹیبلیٹ تھی جو میں اکثر اپنی بیوی پر بھی استعمال کرتا تھا۔ تقریباً پانچ منٹ اسی طرح گذرے اور وہ تڑپتی رہی کہ میں اسکو پہلے والی رفتار سے چودوں ۔

اب میں نے محسوس کیا کہ ٹیبلیٹ اثر کر رہی ہے اور میرا لنڈ مکمل سخت ہے اور لاوا اگلنے کے موڈ میں نہیں ہے میں نے اپنی رفتار بڑھا دی اور بے تحاشہ جھٹکوں سے اسے چودنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی اسکی آہوں سے زیادہ چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں اب رکنے والا تھا بھی نہیں۔بہرحال وہ اس دوران تین بار فارغ ہوئی اس کی ہمت جواب دے رہی تھی میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور کہا ابھی میں فارغ نہیں ہوا ہوں تم گھوڑی بنو اسکو اسکا تجربہ نہیں تھا اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے اسے بتایا کیسے گھوڑا بننا ہے وہ سمجھی تھی میں شاید پیچھے کی طرف سے اسکی چوت میں لنڈ داخل کرونگا جیسے ہی وہ گھوڑی بنی میں نے اپنا لنڈ اسکی گانڈ پر رکھا اور پوری طاقت سے اسکو اندر داخل کردیا میرا لنڈ کسی پسٹن کی طرح چکنا اور گیلا تھا اور اسکی گانڈ بھی اسکی چوت سے بہہ کر آنے والے پانی سے گیلی تھی میراپورا لوڑا اسکی گانڈ میں ایک ہی بار میں گھس گیا اور وہ درد سے بلبلا اٹھی مگر میں باز آنے والا کب تھا۔

میں نے اسکو جکڑ لیا اور وہ کوشش کرتی رہی میری گرفت سے نکلنے کی مگر میں نے اسکو نہیں چھوڑا ذرا دیر بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کم ہوئی اس نے کہا ہاں مگر آپ اس کو نکال کر وہیں ڈالیں جہاں پہلے تھا۔ مگر میں نے انکار کردیا اور کہا ابھی نہیں تھوڑی دیر میں وہ خاموش ہوگئی اس نے خود کو پورا میرے حوالے کیا ہوا تھا۔ بس میں نے اسکی رضامندی دیکھ کر اپنا کام شروع کردیا اور جھٹکے دینا شروع کیے اور پھر پوری رفتار میں ایکبار پھر سے اآگیا اسکے ممے بری طرح سے ہل ہل کر اسکے چہرے سے ٹکرا رہے تھےاور وہ بھی پوری ہل رہی تھی اس نے کہا ایسے مزہ نہیں آرہا ہے بہت ہل رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا چلو نیچے زمین پر اسکو زمین پر لاکر میں نے پیٹ کے بل اسکو بیڈ پر اسطرح لٹایا کہ اسکے گھٹنے زمین پر تھے اب میں بھی اسی پوزیشن میں آگیا اور پھر سے لنڈ اسکی گانڈ میں داخل کیا اب میں نے پورا لنڈ اندر ڈال کر مزید اسکی گانڈ کو گہرا کرنے کی کوشش کی اور اندر لنڈ کو رکھ کر ہی دباؤ ڈالا ۔ جس سے ایک بار پھر اسکی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔

بالاخر میرا وقت پورا ہونے لگامیں نے اس سے کہا میں تمہاری گانڈ میں ہی منی نکال رہا ہوں نہیں تو تم ماں بن سکتی ہو۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے جیسے ہی وقت آیا پورا لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑا اور میرے لنڈ نے منی اگلنا شروع کردی۔ وہ شاید دو تین بار کی منی تھی جو ایک ہی دفعہ میں نکل رہی تھی کیونکہ ٹیبلیٹ سے میں نے اسے روکا ہوا تھا۔ وہ میری منی کے ہر ہر شاٹ پر کپکپا رہی تھی۔ اور اس نے کہا یہ تو بہت گرم ہے مجھے بخار لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہے یہ گرمی ہے اسکو انجوائے کرو۔ یہ گرمی پیدا بھی تو تم نے ہی کی تھی۔ پھر آخر میں نے لنڈ باہر نکالا اور وہ سیدھی ہو کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔ اس نے کہا آپ انسان تو نہیں لگتے پہلے جب میں نے سیکس کیا تھا تو اتنا وقت تو نہیں لگا تھا جتنا آپ نے لگایا ہے یہ کہہ کر وہ اٹھی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگی ۔ اسکے بعد وہ میرے لنڈ کی دیوانی ہوگئی مگر اسکو کیا پتہ تھا کہ میں نے کیا کیا ہے اسکے ساتھ ۔ بعد میں بھی کئی بار اسکو چودا۔ اور وہ ہمیشہ خوش رہی کہ سکو اتنا موٹا اور اتنا زیادہ مزے دینے والا لنڈ ملا ہے۔
میری اِس کہانی کو پڑھنے والی سبھی چُوتوں اؤر لؤڑوں کو میرا بار بار سلام !

دوستو ! اِس کہانی کو پڑھکر چُوتیں اؤر لنڈ پانی چھوڑ دیںگے، یہ میرا آپسے وادا ہے اؤر آپکا بھی من چُدائی کے لِئے بیکرار ہو جاّیگا۔

دوستوں میرا نام سُنیل ہے، اُمر 28 اؤر لمبائی 6 فُٹ ہے ۔ ہمارا پرِوار ایک سںیُکت پرِوار ہے۔ میں آج آپکو اَپنے جیون کی ایک سچّی گھٹنا کے بارے میں بتانے جا رہا ہُوں۔ اِسکے باد سے تو میری جِندگی ہی ایک سیکسی فِلم جیسی ہو گئی۔ ہمارے پرِوار کے سدسے کِسی کی شادی میں گئے ہُئے تھے اؤر ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اِس لِیے میں شام کو گھر واپِس آ گیا اؤر پڑوس والی چاچی کے گھر چلا گیا۔ میرے چاچا فؤج میں تھے اؤر کُچھ دِن پہلے ہی چھُٹّی بِتاکر واپِس گئے تھے اِسلِیے میری چاچی گھر پے اَکیلی رہتی تھی۔ گھر میں ویسے تو اُنکے ساس سسُر بھی تھے پر وو بات کہاں تھی کِ جو اُنکے سُکھ دُہکھ باںٹ سکیں۔

میری چاچی کی اُمر 26 سال اؤر لمبائی 5'8" ہے اؤر اُنکی فیگر 36-32-36 کی ہے اُنکی شادی کو سات سال بیت چُکے تھے۔ پر اُنہیں اؤلاد کا سُکھ نسیب نہیں ہُآ تھا۔ آج بھی وو بڑی سیکسی نزر آتی ہیں۔ جب پہلے بھی کبھی میں اؤر چاچی گھر میں اَکیلے ہوتے تھے تو میںنے کئی بار جھُک کر کام کرتے سمے اُنکی گوری-گوری چھاتی دیکھی تھی۔ اُنکے وو بڑے بڑے ستن ہمیشا ہی میری آںکھوں کے سامنے گھُومتے رہتے تھے۔ میری ماں نے چاچی کو کہ رکھا تھا کِ رات کو ہمارے گھر پر سو جانا۔

شام کو میں چاچی کے گھر چلا گیا۔ جب چاچی گھر کا کام کر رہی تھی، اُنہوںنے کالے رںگ کا سُوٹ اؤر سپھید سلوار پہنا ہُآ تھا۔ گرمی کا مؤسم ہونے کے کارن اُنکے کپڑے پتلے تھے اؤر اُسمیں سے اُنکے اَںدرُونی کپڑے برا اؤر چڈّی ساف نزر آ رہے تھے۔ میں اُس وکت ٹیوی دیکھ رہا تھا لیکِن میرا پُورا دھیان چاچی کی گاںڈ اؤر بڑے بڑے ستنوں پر تھا۔ رات کو کھانا کھاکر میں اَپنے گھر آ گیا۔ چاچی نے کہا کِ وو کام نِپٹا کر تھوڈی دیر میں آ رہی ہے۔ مُجھے دیر تک ٹیوی دیکھنے کی آدت ہے اِسلِیے میں کریب رات 9:30 تک ٹیوی دیکھتا رہا۔

تبھی چاچی آ گئی۔ اُسکے باد میںنے گھر کے سبھی درواجے چیک کرکے بںد کر دِئے۔ میںنے چاچی کا بِستر بھی اَپنے کمرے میں لگا دِیا تھا۔ تھوڑی دیر تک ہمنے ٹیوی دیکھا، پھِر چاچی مُجھسے کہنے لگی کِ اُسے نیںد آ رہی ہے اؤر وو سو رہی ہے۔

میںنے کہا- ٹھیک ہے، تُم سو جاّو۔

اُسکے باد میں کریب ایک گھںٹا اؤر ٹیوی دیکھتا رہا۔ سونے سے پہلے جب میں پیشاب کرنے کے لِیے جانے لگا تو میںنے دیکھا کِ چاچی اَبھی تک جاگ رہی ہے۔ میںنے پیشاب کرکے واپِس آ کر چاچی سے پُوچھا- کیا بات ہے، آپکو نیںد کیوں نہیں آ رہی؟

تو چاچی نے بتایا کے اُسکے پیٹ میں بڑا درد ہو رہا ہے۔ تو میںنے اُنسے پُوچھا کِ کیا میں اُنکی کوئی مدد کر سکتا ہُوں تو اُنہوںنے کہا- پلیز ! سرسوں کے تیل سے میرے پیٹ کی تھوڑی مالِش کر دوگے؟

تو میںنے کہا- ٹھیک ہے۔

میں سرسوں کا تیل لیکر آ گیا۔ اُنہوںنے اَپنے پیٹ پر سے کمیج اُوپر کر دِیا، میںنے اُنکے پیٹ کی مالِش کرنی شُرُ کر دی۔ میں کریب 30 مِنٹ تک اُنکی مالِش کرتا رہا۔ اُسکے باد اُنکے پیٹ کا درد کُچھ ٹھیک ہو گیا پر اَبھی بھی تھوڑا سا تیل بچ گیا تھا تو اُنہوںنے کہا کِ اِسے اُنکی پیٹھ پر لگا دو۔

چاچی کی پیٹھ سے اُنکا کمیج ٹھیک سے اُوپر نہیں ہو رہا تھا تو چاچی بولی- چلو میں کمیج ہی اُتار دیتی ہُوں۔

چاچی کمیج اُتار کر لیٹ گئی اؤر میں اُنکی لاتوں پر بیٹھ کر اُنکی پیٹھ کی مالِش کرنے لگ گیا۔ ایسا کرتے سمے میںنے کئی بار اَپنا ہاتھ اُنکے ستنوں پے لگایا پر وو کُچھ ن بولی۔ پھِر مالِش کرنے کے باد اَپنے بِستر میں چلا گیا۔

اَبھی مُجھے لیٹے ہُئے تھوڑا وکت ہی ہُآ تھا کِ چاچی میری چارپائی کے پاس آ گئی اؤر میرے اُوپر بیٹھ گئی۔ مُجھے پتا نہیں چل رہا تھا کِ میں کیا کرُوں۔

میںنے چاچی سے پُوچھا- آپ یہ کیا کر رہی ہو؟

تو وو بولی- آج تُونے میرے ستنوں کو ہاتھ لگا کر کئی سالوں سے میرے اَںدر کی سوئی ہُئی اؤرت کو جگا دِیا ہے اؤر اَب اِسکی گرمی کو ٹھںڈا بھی تُمہیں ہی کرنا پڑیگا۔

وو چاچی جِسکے ساتھ نںگا سونے کے میں سِرف سپنے ہی دیکھتا تھا وو آج میرے اُوپر بِنا کمیج کے بیٹھی ہُئی تھی۔ میرا سپنا سچ ہونے جا رہا تھا اِس لِیے میں بہُت کھُش تھا۔

پھِر میںنے اؤر چاچی نے اَپنا کام شُرُ کر دِیا۔ اُسنے اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں میں ڈال لِیے اؤر 10 مِنٹ تک مُجھے چُومتی رہی۔ پہلے مینے اَپنی جیبھ چاچی کے مُںہ میں ڈال دی اؤر پھِر اُسنے میرے۔ پھِر چاچی نے اَپنی سلوار اُتار دی اؤر اَب اُسنے سِرف برا اؤر چڈّی ہی پہنی ہُئی تھی۔ پھِر وو بِستر پر لیٹ گئی اؤر میں اُسکے اُوپر۔

پھِر ہم دونوں کافی وکت تک ایک دُوجے کو چُومتے رہے، کبھی میں اُسکی چھاتی کو چُومتا، کبھی اُسکے پیٹ کو، تو کبھی لاتوں کو۔ پھِر چاچی نے اَپنی برا اُتار دی اؤر میںنے اُنکے بڑے بڑے بُوبس چُوسنے شُرُ کر دِیا۔ اُسکے چُوچُک سکھت ہو گئے تھے اؤر چُوچی سکھت کٹھور ہوتی جا رہی تھی۔ میں اُنہیں مست ہوکر چُوسے جا رہا تھا۔

پھِر چاچی نے اَپنی چڈّی بھی اُتار دی اؤر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ چاچی کی چُوت بہُت بڑی تھی۔ میںنے اُسکو چاٹنا شُرُ کر دِیا۔ پھِر 5-6 مِنٹ میں چاچی پہلی بار جھڑ گئی۔ اُسکے باد چاچی نے میرا بڑا سا لںڈ اَپنے مُںہ میں ڈال لِیا اؤر چُوسنے لگ گئی میںنے بھی اُنکے مُںہ میں ہی پِچکاری مار دی۔

پھِر چاچی نے کہا- چلو اَب اَسلی کام کرتے ہیں !

چاچی ٹاںگوں کو تھوڑا کھول کر سیدھی لیٹ گئی۔ میںنے اُوپر سے اَپنا لںڈ چاچی کی چُوت میں ڈال دِیا، وو بہُت کھُش تھی کیوںکِ آج بہُت وکت باد اُسکی چُوت میں لںڈ گھُسا تھا۔ میںنے لںڈ کو آگے پیچھے کرنا شُرُ کر دِیا۔ چاچی نے بھی آآاَ اِیئے اُواُوہ ماآ ہاآ ہاَّ کی آوازیں نِکالنی شُرُ کر دی۔ میں کریب تیس مِنٹ تک چاچی کی چُوت چودتا رہا، اِسمیں چاچی دو بار جھڑ چُکی تھی۔

پھِر میںنے چاچی کو کہا- میں اَب تُمہیں گھوڑی کی ترہ چودنا چاہتا ہُوں۔

چاچی گھوڑی بن گئی، میںنے لںڈ کو پیچھے سے اُسکی چُوت میں گھُسیڑ دِیا۔ چاچی کی چُوت پیچھے سے بڑی تںگ مہسُوس ہو رہی تھی۔ اُنہیں درد ہُآ اؤر وو چِلّا دی- آایئیئیئیئیئیئیئیئے ماآّآّاَ !

میںنے جور جور سے لںڈ آگے پیچھے کرنے شُرُ کر دِیا اؤر 15 مِنٹ تک چاچی کو چودتا رہا۔ میںنے چاچی جیسی گرم اؤرت کی کبھی نہیں لی تھی۔ پھِر میرا چھُوٹ گیا اؤر میں چاچی کو چُومنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر میں ہی لںڈ پھِر سے سلامی دینے لگا۔ پھِر چاچی نے بولا کِ میں ایک بار پھِر اُنکی چُوت مارُوں !

اِس بار وو میرے اُوپر بیٹھ گئی اؤر اَپنے آپ ہِل ہِل کر دھکّے دینے لگی۔ مُجھے بڑا مزا آ رہا تھا۔ پھِر میںنے اُس ساری رات چاچی کی چار بار چُوت ماری۔ چاچی نے مُجھسے سُبہ کہا کِ اَب اُنکی تمنّا جرُور پُوری ہو جایّگی۔

اِسکے باد جب بھی ہمیں مؤکا مِلتا، ہم یہ کھیل کھیلتے رہے۔ کُچھ مہینے باد چاچی نے ایک دِن مُجھے بتایا- میں ماں بنّے والی ہُوں اؤر یہ سب تُمہاری ہی بدؤلت ہے کِ مُجھے ماں بنّے کا سُکھ مِلا ہے پر مُجھے ڈر ہے کِ تُم کہیں یے سب کِسی کو کہ ن دو۔

میںنے چاچی کو وِشواس دِلایا کِ ایسا کبھی نہیں ہوگا اؤر یہ بات ہمارے بیچ ہی رہیگی۔

اُس دِن سے آج تک پتا نہیں میں کِتنی ہی ایسے چاچِیوں اؤر بھابھِیوں کو یے سُکھ دے چُکا ہُوں۔

تو دوستوں مُجھے میل کرنا ن بھُولیں، آپکے میل کا اِںتجار رہیگا